مواد پر جائیں

ورڈ کاؤنٹر – آن لائن الفاظ اور حروف گنیں

اپنا ٹیکسٹ لکھیں یا پیسٹ کریں اور فوراً الفاظ، حروف، جملے اور پڑھنے کا وقت دیکھیں۔ آپ جو کچھ لکھتے ہیں وہ آپ کے براؤزر سے باہر نہیں جاتا۔

الفاظ
0
حروف
0
حروف (اسپیس کے بغیر)
0
جملے
0
پیراگراف
0
پڑھنے کا وقت
0 سیکنڈ
بولنے کا وقت
0 سیکنڈ

آپ کا ٹیکسٹ اسی براؤزر ٹیب میں رہتا ہے۔ نہ کچھ محفوظ ہوتا ہے، نہ کہیں بھیجا جاتا ہے۔

حروف کی حد

X (Twitter) پوسٹ0 / 280
Google ٹائٹل0 / 60
میٹا ڈسکرپشن0 / 160
SMS پیغام0 / 160
Instagram کیپشن0 / 2,200

سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ

لکھتے ہوئے جو الفاظ بار بار آئیں گے وہ یہاں نظر آئیں گے۔

الفاظ کیسے گنیں

  1. اپنا ٹیکسٹ لکھیں یا پیسٹ کریں “آپ کا ٹیکسٹ” والے باکس میں۔ Word، Google Docs، WhatsApp، ای میل یا کسی بھی ویب پیج سے کاپی کیا ہوا ٹیکسٹ چلتا ہے۔
  2. اوپر گنتی دیکھیں۔ الفاظ، اسپیس کے ساتھ اور اس کے بغیر حروف، جملے، پیراگراف، اور پڑھنے اور بولنے کا وقت، سب لکھتے لکھتے بدلتے رہتے ہیں۔
  3. “حروف کی حد” چیک کریں کہ آپ کا ٹیکسٹ X پوسٹ، Google ٹائٹل، میٹا ڈسکرپشن، SMS یا Instagram کیپشن میں آتا ہے یا نہیں۔
  4. بار بار آنے والے الفاظ دیکھیں اور جمع کرانے سے پہلے غیر ضروری تکرار ٹھیک کر لیں۔ کام ختم ہو تو “ٹیکسٹ کاپی کریں” یا “صاف کریں” دبائیں۔

خصوصیات

  • لائیو گنتی: بہت لمبی دستاویز میں بھی الفاظ اور حروف ساتھ ساتھ گنے جاتے ہیں۔
  • اردو، ہندی، عربی اور انگریزی سب کے الفاظ درست پہچانے جاتے ہیں، اور اردو کا ختمہ (۔) اور سوالیہ نشان (؟) جملے کا اختتام مانے جاتے ہیں۔
  • اسپیس کے ساتھ اور بغیر حروف، جملے اور پیراگراف الگ الگ۔
  • پڑھنے اور بولنے کا وقت بلاگ پوسٹ، تقریر یا YouTube اسکرپٹ کے لیے۔
  • حروف کی حد کی پٹیاں X، Google، SMS اور Instagram کے لیے، جو حد پار ہوتے ہی سرخ ہو جاتی ہیں۔
  • سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ ان کی گنتی اور فیصد کے ساتھ۔
  • کاپی اور صاف کرنے کے بٹن، اور فون پر بھی اتنا ہی آسان۔

اردو ٹیکسٹ کی گنتی کیسے ہوتی ہے

اردو میں الفاظ کی حد اسپیس سے طے ہوتی ہے، اس لیے ٹول بھی وہی گنتا ہے جو آپ نے لکھا ہے۔ “خوش آمدید” دو الفاظ ہیں، لیکن اگر کسی نے اسے بغیر اسپیس کے ملا کر لکھ دیا ہو تو ایک لفظ گنا جائے گا۔ اسی طرح اگر ٹائپ کرتے وقت الفاظ کے درمیان اسپیس رہ گئی ہو تو ایک لفظ دو بن جاتا ہے۔ اس لیے گنتی میں عجیب فرق دکھے تو ٹیکسٹ میں اسپیس ضرور دیکھ لیں۔

حروف گنتے ہوئے ٹول وہ اکائی گنتا ہے جو اسکرین پر ایک حرف کی صورت میں نظر آتی ہے۔ یعنی زیر، زبر، پیش یا تشدید والا حرف ایک ہی گنا جاتا ہے، اور ایموجی بھی ایک حرف شمار ہوتا ہے۔ نئی لائن بھی ایک حرف ہے، اس لیے “حروف” اور “حروف (اسپیس کے بغیر)” میں فرق اسپیس اور لائن بریکس کا ہوتا ہے۔

جملے ختمہ (۔)، سوالیہ نشان (؟)، ندائیہ نشان (!) یا انگریزی فل اسٹاپ پر ختم مانے جاتے ہیں۔ پیراگراف وہ حصے ہیں جن کے درمیان کم از کم ایک خالی لائن ہو۔

کتنے الفاظ کی ضرورت عام طور پر پڑتی ہے

X پوسٹ میں 280 حروف آتے ہیں۔ اسکول اور یونیورسٹی کے مضامین میں 250، 500 یا 1,000 الفاظ کی حد عام ہے، اور اسکالرشپ یا داخلے کے فارم میں “Statement of Purpose” اکثر 500 سے 1,000 الفاظ کا مانگا جاتا ہے۔ میٹا ڈسکرپشن تقریباً 150 سے 160 حروف کی رکھیں تاکہ Google اسے نہ کاٹے، اور صفحے کا ٹائٹل 50 سے 60 کے درمیان۔ تقریر کے لیے 150 الفاظ تقریباً ایک منٹ کے برابر ہیں، اس لیے پانچ منٹ کی تقریر کو لگ بھگ 750 الفاظ چاہییں۔

Fileora کا ورڈ کاؤنٹر کیوں استعمال کریں

الفاظ کی حد ہر جگہ ہوتی ہے: اسائنمنٹ، نوکری کی درخواست، اسکالرشپ فارم، پروڈکٹ ڈسکرپشن اور سوشل میڈیا پوسٹ۔ اچھا ورڈ کاؤنٹر آپ کو فوراً گنتی دے اور راستے سے ہٹ جائے۔ یہاں کوئی بٹن دبانے کی ضرورت نہیں، گنتی لکھتے لکھتے ہوتی رہتی ہے۔

یہ محفوظ بھی ہے۔ بہت سی ویب سائٹس آپ کا پیسٹ کیا ہوا ٹیکسٹ اپنے سرور پر محفوظ کر لیتی ہیں۔ یہاں ٹیکسٹ آپ کے براؤزر سے باہر نہیں جاتا، جو کور لیٹر، قانونی بیان یا غیر شائع شدہ مضمون کے لیے بہت اہم ہے۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سائن اپ، اور فون پر بھی پوری طرح کام کرتا ہے۔

اگر آپ کو اردو ٹائپ کرنی ہو تو اردو کی بورڈ سے لکھ کر یہاں گنتی دیکھیں۔ ٹیکسٹ میں فالتو اسپیس ہوں تو اضافی اسپیس ہٹائیں والا ٹول استعمال کریں، اور اپنے Instagram bio کو Instagram فونٹ جنریٹر سے سجائیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا یہ ٹول اردو کے الفاظ درست گنتا ہے؟

جی ہاں۔ الفاظ کی حد پہچاننے کے لیے ٹول آپ کے براؤزر میں موجود زبان کے اصول استعمال کرتا ہے، اس لیے اردو، ہندی، عربی اور انگریزی سب درست گنے جاتے ہیں۔ اردو میں جو الفاظ اسپیس سے الگ لکھے ہوں وہ الگ گنے جاتے ہیں، جیسے “اسلام آباد” دو الفاظ، جبکہ “حیدرآباد” جیسا ملا کر لکھا لفظ ایک۔

کیا اسپیس بھی حروف میں گنی جاتی ہے؟

ٹول دونوں گنتی دکھاتا ہے۔ “حروف” میں اسپیس اور لائن بریک شامل ہیں، اور سوشل میڈیا کی زیادہ تر حدیں اسی حساب سے ہوتی ہیں۔ “حروف (اسپیس کے بغیر)” وہ گنتی ہے جو بعض یونیورسٹیاں، مترجم اور پبلشر مانگتے ہیں۔ زیر، زبر اور پیش اپنے حرف کے ساتھ ایک ہی حرف شمار ہوتے ہیں۔

پڑھنے اور بولنے کا وقت کیسے نکالا جاتا ہے؟

پڑھنے کا وقت تقریباً 238 الفاظ فی منٹ کی اوسط رفتار پر اور بولنے کا وقت تقریباً 150 الفاظ فی منٹ پر نکالا جاتا ہے، جو تقریر یا پریزنٹیشن کی آرام دہ رفتار ہے۔ یہ اوسط انگریزی ٹیکسٹ کے لیے ہیں، اس لیے اردو ٹیکسٹ کے لیے انہیں اندازہ ہی سمجھیں۔

کیا میرا ٹیکسٹ کہیں محفوظ یا اپ لوڈ ہوتا ہے؟

نہیں۔ ٹیکسٹ صرف اسی براؤزر ٹیب میں رہتا ہے اور ٹیب بند کرتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ہمارے سرور پر کبھی نہیں بھیجا جاتا، اس لیے آپ نجی پیغامات، اسائنمنٹ یا دفتری دستاویزات بے فکر ہو کر چیک کر سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور SMS کی حد کتنی ہوتی ہے؟

ٹول پانچ عام حدیں دکھاتا ہے: X (Twitter) پوسٹ کے لیے 280 حروف، Google ٹائٹل کے لیے تقریباً 60، میٹا ڈسکرپشن اور SMS کے لیے 160، اور Instagram کیپشن کے لیے 2,200۔ حد سے بڑھتے ہی پٹی سرخ ہو جاتی ہے۔ یاد رہے کہ اردو میں لکھا SMS عموماً ایک پیغام میں تقریباً 70 حروف ہی لے پاتا ہے، اس سے لمبا پیغام کئی حصوں میں جاتا ہے۔

“سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ” میں کیا دکھایا جاتا ہے؟

وہ الفاظ جو آپ کے ٹیکسٹ میں ایک سے زیادہ بار آئے ہوں، زیادہ سے زیادہ دس۔ ایک یا دو حرفی الفاظ (جیسے “کا”، “نے”)، صرف ہندسوں والے الفاظ اور “the”، “and” جیسے عام انگریزی الفاظ چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ “اور”، “میں” یا “ہیں” جیسے عام اردو الفاظ نہیں چھوڑے جاتے، اس لیے یہ اکثر فہرست میں اوپر نظر آئیں گے۔

آپ کو مطلوبہ ٹول نہیں ملا، یا کچھ کام نہیں کر رہا؟

ہمیں بتائیں کہ آپ کو اگلا کون سا ٹول چاہیے یا کیا خرابی ہوئی۔ ہم ہر پیغام پڑھتے ہیں، اور درخواستوں سے ہی طے ہوتا ہے کہ ہم آگے کیا بنائیں۔

آپ کی ای میل ایپ کھلے گی۔ براہِ کرم نجی فائلیں منسلک نہ کریں۔