QR کوڈ کیسے بنائیں
- چنیں کہ کوڈ میں کیا ہو: “لنک”، “ٹیکسٹ”، “Wi-Fi” یا “کانٹیکٹ” (vCard)۔
- تفصیلات بھریں۔ جیسے جیسے آپ لکھتے ہیں، “پیش منظر” میں QR کوڈ بدلتا جاتا ہے۔
- انداز طے کریں (اختیاری)۔ کوڈ کا رنگ، بیک گراؤنڈ، PNG کا سائز، خالی کنارہ اور ایرر کریکشن کا لیول چنیں۔
- آزما کر دیکھیں۔ اپنے فون کا کیمرا اسکرین پر نظر آنے والے کوڈ پر رکھیں اور یقین کر لیں کہ وہی چیز کھلتی ہے جو آپ چاہتے ہیں۔
- “PNG ڈاؤن لوڈ کریں” یا “SVG ڈاؤن لوڈ کریں” دبائیں اور فائل پرنٹ یا شیئر کریں۔
خصوصیات
- چار قسم کے QR کوڈ: ویب سائٹ لنک، سادہ ٹیکسٹ، Wi-Fi لاگ اِن (WPA، WEP یا بغیر پاس ورڈ کا نیٹ ورک، چھپے ہوئے نیٹ ورک سمیت) اور vCard کانٹیکٹ کارڈ، جس میں نام، فون، ای میل، کمپنی، عہدہ، ویب سائٹ اور پتا شامل ہو سکتے ہیں۔
- لائیو پیش منظر جو لکھتے لکھتے بدلتا ہے۔
- اپنی پسند کے رنگ کوڈ اور بیک گراؤنڈ کے لیے، اور کم فرق والے رنگوں پر خودکار تنبیہ۔
- PNG ڈاؤن لوڈ 128 سے 2048 پکسل تک، اور ہر سائز پر صاف پرنٹ کے لیے SVG ڈاؤن لوڈ۔
- خالی کنارے کا سائز 0 سے 8 تک، اور ایرر کریکشن کے چار لیول۔
- لنک کے شروع میں
httpsخود لگ جاتا ہے اگر آپ لکھنا بھول جائیں۔ - ہمیشہ چلنے والے اسٹیٹک کوڈ۔ نہ اکاؤنٹ، نہ سبسکرپشن، نہ ری ڈائریکٹ۔
Fileora کا QR کوڈ جنریٹر کیوں استعمال کریں
بہت سی مفت QR ویب سائٹس “ڈائنامک” کوڈ بناتی ہیں جو ہر اسکین کو پہلے اپنے سرور سے گزارتے ہیں۔ اس سے وہ اسکین گن لیتی ہیں، مگر اس کا نقصان یہ ہے کہ اگر وہ سروس بند ہو جائے یا پیسے مانگنے لگے تو آپ کے چھپے ہوئے مینیو کارڈ، پمفلٹ اور وزیٹنگ کارڈ بیکار ہو جاتے ہیں۔ Fileora عام اسٹیٹک QR کوڈ بناتا ہے جن میں معلومات کوڈ کے اندر ہی ہوتی ہیں، اس لیے یہ ہر فون کیمرے اور ہر QR اسکینر کے ساتھ ہمیشہ کام کرتے ہیں۔
سارا کام آپ کے براؤزر میں ہوتا ہے۔ آپ کا Wi-Fi پاس ورڈ، فون نمبر اور پتا کبھی آپ کے ڈیوائس سے باہر نہیں جاتا، جو گھر کے نیٹ ورک یا ذاتی کانٹیکٹ کارڈ کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ بالکل مفت ہے، سائن اپ کی ضرورت نہیں، کوڈ پر کوئی واٹرمارک یا ہمارا لوگو نہیں لگتا، اور آپ جتنے چاہیں کوڈ بنا سکتے ہیں۔ فون پر بھی یہ اتنا ہی آسان ہے جتنا کمپیوٹر پر۔
پاکستان اور بھارت میں QR کوڈ کے عام استعمال
دکان یا کیفے میں مہمانوں کے لیے Wi-Fi کا کوڈ کاؤنٹر پر لگا دیں، تاکہ بار بار پاس ورڈ بتانا نہ پڑے۔ ریسٹورنٹ اپنے آن لائن مینیو کا لنک میز پر رکھ سکتے ہیں۔ وزیٹنگ کارڈ کے پیچھے کانٹیکٹ کوڈ چھاپ دیں تو اسکین کرنے والے کے فون میں آپ کا نمبر اور ای میل سیدھے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ شادی کے کارڈ پر لوکیشن کا لنک، اسکول کے نوٹس پر داخلہ فارم کا لنک، یا پروڈکٹ کے ڈبے پر استعمال کی ہدایات کا لنک بھی عام مثالیں ہیں۔
مہمانوں کے Wi-Fi کے لیے پہلے مضبوط پاس ورڈ بنائیں اور پھر اس کا QR کوڈ یہاں تیار کریں۔ گاہکوں سے براہِ راست بات کرنی ہو تو WhatsApp لنک بنا کر اس کا کوڈ پرنٹ کریں، اور اگر کوڈ کسی دستاویز میں لگا کر ای میل کرنا ہو تو بھیجنے سے پہلے PDF کمپریس کر لیں۔
ایسے QR کوڈ کے لیے مشورے جو ہر بار اسکین ہوں
کوڈ کم از کم 2 × 2 سینٹی میٹر پرنٹ کریں، اور اگر لوگ دور سے اسکین کریں گے تو اس سے بڑا۔ ایک آسان اصول یہ ہے کہ اسکین کے ہر دس سینٹی میٹر فاصلے کے لیے کوڈ کا ایک سینٹی میٹر سائز رکھیں۔ کوڈ کے گرد سفید خالی کنارہ ضرور رہنے دیں؛ اسے کاٹ دینا پرنٹ شدہ کوڈ کے نہ چلنے کی سب سے عام وجہ ہے۔ چھوٹا لنک سادہ کوڈ بناتا ہے جو جلدی اسکین ہوتا ہے۔ اور سینکڑوں کاپیاں چھپوانے سے پہلے ایک نمونہ پرنٹ کر کے دو مختلف فونز سے ضرور آزما لیں۔