مضبوط پاس ورڈ کیسے بنائیں
- “لمبائی” کا سلائیڈر سرکا کر حروف کی تعداد طے کریں۔ 16 حروف اچھی شروعات ہے؛ اہم اکاؤنٹس کے لیے 20 یا زیادہ رکھیں۔
- “کون سے حروف شامل ہوں” میں چنیں: بڑے حروف، چھوٹے حروف، ہندسے اور علامات۔ اگر پاس ورڈ کبھی ہاتھ سے لکھنا یا پڑھ کر بتانا ہو تو “ملتے جلتے حروف شامل نہ کریں” آن کر دیں۔
- “مضبوطی” کا میٹر دیکھیں۔ یہ پاس ورڈ کی مضبوطی اور بٹس میں اینٹروپی دکھاتا ہے، ساتھ ایک مختصر مشورہ کہ کیا بدلنا بہتر ہوگا۔
- “کاپی کریں” دبائیں اور پاس ورڈ سائن اپ یا پاس ورڈ بدلنے والے فارم میں پیسٹ کریں۔ نیا پاس ورڈ چاہیے تو ساتھ والا ری فریش بٹن دبائیں۔
خصوصیات
- کرپٹوگرافک طور پر محفوظ رینڈم پن براؤزر کے اندرونی
crypto.getRandomValuesسے، جو انکرپشن کیز کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور ایسا طریقہ جس میں ہر حرف کے آنے کا امکان برابر ہو۔ - 4 سے 128 حروف تک کوئی بھی لمبائی۔
- حروف کی اقسام خود چنیں: بڑے، چھوٹے، ہندسے اور علامات۔ ہر چنی ہوئی قسم کا کم از کم ایک حرف پاس ورڈ میں ضرور آتا ہے، اس لیے “کم از کم ایک ہندسہ ہونا چاہیے” جیسی شرطیں پوری ہو جاتی ہیں۔
- ملتے جلتے حروف جیسے I، l، 1، O اور 0 نکالنے کا آپشن۔
- لائیو مضبوطی میٹر، بٹس میں اینٹروپی اور آسان زبان میں مشورے کے ساتھ۔
- ایک ٹیپ میں کاپی جو فون اور کمپیوٹر دونوں پر چلتی ہے۔
Fileora کا پاس ورڈ جنریٹر کیوں استعمال کریں
پاس ورڈ جنریٹر پر بھروسا اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب پتا ہو کہ پاس ورڈ بنتا کہاں ہے۔ کچھ آن لائن جنریٹر پاس ورڈ اپنے سرور پر بنا کر آپ کے براؤزر کو بھیجتے ہیں، یعنی وہ انٹرنیٹ سے گزر چکا ہوتا ہے اور اصولاً کہیں محفوظ بھی ہو سکتا ہے۔ Fileora پاس ورڈ مکمل طور پر آپ کے ڈیوائس پر بناتا ہے۔ نہ کچھ بھیجا جاتا ہے، نہ محفوظ ہوتا ہے، اور ٹیب بند کرتے ہی کچھ باقی نہیں رہتا۔ یہ مفت ہے، سائن اپ کی ضرورت نہیں، اور فون پر بھی پوری طرح کام کرتا ہے۔
انسان خود بے ترتیب پاس ورڈ بنانے میں اچھے نہیں ہوتے۔ ہم اپنا نام، پیدائش کا سال، شہر کا نام یا “Pakistan123” جیسے پاس ورڈ رکھ لیتے ہیں، اور آخر میں “@” یا “1” لگا دیتے ہیں۔ پاس ورڈ توڑنے والے پروگرام سب سے پہلے یہی نمونے آزماتے ہیں۔ بنایا ہوا پاس ورڈ ان سب سے پاک ہوتا ہے، اور پاس ورڈ مینیجر کے ساتھ مل کر ہر اکاؤنٹ کا الگ پاس ورڈ رکھنا آسان ہو جاتا ہے، تاکہ ایک ویب سائٹ کا ڈیٹا لیک ہونے سے باقی اکاؤنٹس نہ کھلیں۔
دکان یا دفتر میں مہمانوں کے لیے Wi-Fi بنا رہے ہیں؟ یہاں مضبوط پاس ورڈ بنائیں اور پھر اس کا Wi-Fi QR کوڈ تیار کریں، تاکہ لوگ لمبا پاس ورڈ لکھنے کے بجائے اسکین کر کے جڑ جائیں۔ کسی فائل کے ڈیجیٹل فنگر پرنٹ کی ضرورت ہو تو ہیش جنریٹر بھی اسی طرح براؤزر میں چلتا ہے۔
پاس ورڈ کو مضبوط کیا چیز بناتی ہے
مضبوطی دو چیزوں سے آتی ہے: لمبائی اور حروف کا ذخیرہ۔ جب چاروں اقسام کے حروف شامل ہوں تو ہر جگہ کے لیے تقریباً 87 ممکنہ حروف ہوتے ہیں، یعنی ہر حرف تقریباً ساڑھے چھ بٹس اینٹروپی بڑھاتا ہے۔ 16 حروف پر یہ 100 بٹس سے اوپر چلی جاتی ہے، جس کا اندازہ لگانا کسی بھی کمپیوٹر کے بس سے باہر ہے۔
سب سے اہم عادتیں سادہ ہیں: ہر اکاؤنٹ کا الگ پاس ورڈ رکھیں، ہر پاس ورڈ لمبا اور بے ترتیب ہو، اور جہاں ممکن ہو ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن (دو مرحلوں والی تصدیق) ضرور آن کریں۔ اپنا پاس ورڈ یا OTP کبھی کسی کو فون یا SMS پر نہ بتائیں، چاہے وہ خود کو بینک کا نمائندہ ہی کیوں نہ کہے۔